۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 41

وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ‏.‏

ہم سے موسیٰ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ا بوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ نے ، ان سے عامر نے ، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ( میرے والد ) عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو اپنے پیچھے بال بچے اور قرض چھوڑ گئے ۔ میں قرض خواہوں کے پاس گیا کہ اپنا کچھ قرض معاف کر دیں ، لیکن انہوں نے انکار کیا ، پھر میں نبی کریم صلی للہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی سفارش کروائی ۔ انہوں نے اس کے باوجود بھی انکار کیا ۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ ولم نے فرمایا کہ ( اپنے باغ کی ) تمام کھجور کی قسمیں الگ الگ کر لو ۔ عذق بن زید الگ ، لین الگ ، اور عجوہ الگ ( یہ سب عمدہ قسم کی کھجوروں کے نام ہیں ) اس کے بعد قرض خواہوں کو بلاؤ اور میں بھی آؤں گا ۔ چنانچہ میں نے ایسا کر دیا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ڈھیر پر بیٹھ گئے ۔ اور ہر قرض خواہ کے لیے ماپ شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ سب کا قرض پورا ہو گیا اور کھجور اسی طرح باقی بچ رہی جیسے پہلے تھی ۔ گویا کسی نے اسے چھوا تک نہیں ۔
اور ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد میں ایک اونٹ پر سوار ہو کر گیا ۔ اونٹ تھک گیا ۔ اس لیے میں لوگوں سے پیچھے رہ گیا ۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیچھے سے مارا اور فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ دو ۔ مدینہ تک اس پر سواری کی تمہیں اجازت ہے ۔ پھر جب ہم مدینہ سے قریب ہوئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی ، عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے ابھی نئی شادی کی ہے ۔ آپ نے دریافت فرمایا ، کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے ؟ میں نے کہا کہ بیوہ سے ۔ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو اپنے پیچھے کئی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں ۔ اس لیے میں نے بیوہ سے کی تاکہ انہیں تعلیم دے اور ادب سکھاتی رہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا اب اپنے گھر جاؤ ۔ چنانچہ میں گھر گیا ۔ میں نے جب اپنے ماموں سے اونٹ بیچنے کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے ملامت کی ۔ اس لیے میں نے ان سے اونٹ کے تھک جانے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ کا بھی ذکر کیا ۔ اور آپ کے اونٹ کو مارنے کا بھی ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو میں بھی صبح کے وقت اونٹ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے مجھے اونٹ کی قیمت بھی دے دی ، اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس بخش دیا اور قوم کے ساتھ میرا ( مال غنیمت کا ) حصہ بھی مجھ کو بخش دیا ۔

Narrated Abu Hurairah (ra):

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top