حَدَّثَنَا خَلاَّدٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ ـ قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهُ قَالَ ضُحًى ـ فَقَالَ “ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ”. وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے بیان کیا ، ان سے کعب بن مالک نے بیان کیا ، اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہان کے والد ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) احد کے دن شہید کر دیئے گئے تھے ۔ ان پر قرض چلا آ رہا تھا ۔ قرض خواہوں نے اپنے حق کے مطالبے میں سختی اختیار کی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے ان سے دریافت فرما لیا کہ وہ میرے باغ کی کھجور لے لیں ۔ اور میرے والد کو معاف کر دیں ۔ لیکن قرض خواہوں نے اس سے انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں میرے باغ کا میوہ نہیں دیا ۔ اور فرمایا کہ ہم صبح کو تمہارے باغ میں آئیں گے ۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو آپ ہمارے باغ میں تشریف لائے ۔ آپ درختوں میں پھرتے رہے ۔ اور اس کے میوے میں برکت کی دعا فرماتے رہے ۔ پھر میں نے کھجور توڑی اور ان کا تمام قرض ادا کرنے کے بعد بھی کھجور باقی بچ گئی ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah:
I went to the Prophet (ﷺ) while he was in the Mosque. (Mas`ar thinks, that Jabir went in the forenoon.) After the Prophet (ﷺ) told me to pray two rak`at, he repaid me the debt he owed me and gave me an extra amount.
USC-MSA web (English) reference