حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى . فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم “ لاَ تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ فِي جَانِبِ الْعَرْشِ فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ” . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ ابْنِ يَحْيَى أَتَمُّ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہیہود کے ایک شخص نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو چن لیا ، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کر دیا ، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : ” مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو ، ( پہلا صور پھونکنے سے ) سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا ، اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے ، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہو گئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا ۱؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے ۔
‘Abu Hurairah said :
Abu Dawud said : The tradition of Ibn yahya is more perfect.