حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ح، وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ” خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ” . وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لاَ ” ثُمَّ يَظْهَرُ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ وَيَنْذِرُونَ وَلاَ يُوفُونَ وَيَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنُونَ وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ ” .
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن میں مجھے مبعوث کیا گیا ، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں ، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں “ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں ، ” پھر کچھ لوگ رونما ہوں گے جو بلا گواہی طلب کئے گواہی دیتے پھریں گے ، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے ، خیانت کرنے لگیں گے جس سے ان پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا ، اور ان میں موٹاپا عام ہو گا ۱؎ “ ۔