حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، – يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ – قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ لاِبْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَىْءٍ مِنَ الْقَدَرِ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَىَّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ “ إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ ” .
نافع کہتے ہیں کہابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک شامی دوست تھا جو ان سے خط و کتابت رکھتا تھا ، تو عبداللہ بن عمر نے اسے لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے تقدیر کے سلسلے میں ( سلف کے قول کے خلاف ) کوئی بات کہی ہے ، لہٰذا اب تم مجھ سے خط و کتابت نہ رکھنا ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے “ ۔