قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، أَخْبَرَكَ يُوسُفُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا، قِيلَ لَهُ إِنَّ أَهْلَ الأَهْوَاءِ يَحْتَجُّونَ عَلَيْنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ مَالِكٌ احْتَجَّ عَلَيْهِمْ بِآخِرِهِ . قَالُوا أَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ قَالَ “ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ” .
ابن وہب کہتے ہیں کہمیں نے مالک کو کہتے سنا ، ان سے پوچھا گیا : اہل بدعت ( قدریہ ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں ؟ مالک نے کہا : تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلاف استدلال کرو ، اس لیے کہ اس میں ہے : صحابہ نے پوچھا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے “ ۔
Abu Dawud said :