حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَاتَلَ أَجِيرٌ لِي رَجُلاً فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَهْدَرَهَا وَقَالَ “ أَتُرِيدُ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَالْفَحْلِ ” . قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَرَهَا وَقَالَ بَعُدَتْ سِنُّهُ .
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہمیرے ایک مزدور نے ایک شخص سے جھگڑا کیا اور اس کے ہاتھ کو منہ میں کر کے دانت سے دبایا ، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت باہر نکل آیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ نے اسے لغو کر دیا ، اور فرمایا : ” کیا چاہتے ہو کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دیدے ، اور تم اسے سانڈ کی طرح چبا ڈالو “ ابن ابی ملیکہ نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے لغو قرار دیا اور کہا : ( اللہ کرے ) اس کا دانت نہ رہے ۔