حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ زَادَ ثُمَّ نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ خِلاَفٍ . وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَسَلاَّمِ بْنِ مِسْكِينٍ عَنْ ثَابِتٍ جَمِيعًا عَنْ أَنَسٍ لَمْ يَذْكُرَا مِنْ خِلاَفٍ . وَلَمْ أَجِدْ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ قَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلاَفٍ . إِلاَّ فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ .
اس سند سے بھی انس بن مالک سے یہی حدیث انہیں جیسے الفاظ سے مروی ہےاس میں یہ اضافہ ہے ” پھر آپ نے مثلہ سے منع فرما دیا “ اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسرے طرف کا پیر ۔ شعبہ نے قتادہ اور سلام بن مسکین سے انہوں نے ثابت سے ، ثابت نے انس سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا ، تو دوسری طرف کا پیر اور مجھے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ملا کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسری طرف کا پیر ۔