حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَمَقَابِرُ لِلْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ” ثَامِنُونِي بِهِ ” . قَالُوا لاَ نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا أَبَدًا . قَالَ فَكَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ وَالنَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ” أَلاَ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ ” . قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہمسجد نبوی کی زمین قبیلہ بنو نجار کی ملکیت تھی ، جس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” تم مجھ سے اس کی قیمت لے لو “ ، ان لوگوں نے کہا : ہم ہرگز اس کی قیمت نہ لیں گے ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنا رہے تھے اور صحابہ آپ کو ( سامان دے رہے تھے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” سنو ! زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے ، اے اللہ ! تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے “ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مسجد کی تعمیر سے پہلے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے تھے ۱؎ ۔