۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 34

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلاً‏.‏ قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَالْعَرَايَا نَخَلاَتٌ مَعْلُومَاتٌ تَأْتِيهَا فَتَشْتَرِيهَا‏.‏

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے ، انہیں نافع نے ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ، انہیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی کہ وہ اندازے سے بیچی جا سکتی ہے ۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عرایا کچھ معین درخت جن کا میوہ تو اترے ہوئے میوے کے بدل خریدے ۔

Narrated Ibn `Umar from Zaid bin Thabit:

Allah’s Messenger (ﷺ) allowed the sale of ‘Araya by estimating the dates on them for measured amounts of dried dates. Musa bin `Uqba said, “Al- ‘Araya were distinguished date palms; one could come and buy them (i.e. their fruits).

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top