۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 31

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ، مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ أُمَّ، الْفَضْلِ حَدَّثَتْهُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ بِصَائِمٍ‏.‏ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهْوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَهُ‏.‏

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ام فضل رضی اللہ عنہا کے مولی عمیر نے بیان کیا اور ان سے ام فضل رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ۔ ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں عمر بن عبداللہ کے غلام ابونضر نے ، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر نے اور انہیں ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہان کے یہاں کچھ لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں جھگڑ رہے تھے ۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہیں ۔ اور بعض نے کہا کہ روزہ سے نہیں ہیں ۔ اس پر ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا ( تاکہ حقیقت ظاہر ہو جائے ) آپ اپنے اونٹ پر سوار تھے ، آپ نے دودھ پی لیا ۔

Narrated Um Al-Fadl bint Al-Harith:

“While the people were with me on the day of `Arafat they differed as to whether the Prophet (ﷺ) was fasting or not; some said that he was fasting while others said that he was not fasting. So, I sent to him a bowl full of milk while he was riding over his camel and he drank it.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top