۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَوَاكِي فَقَالَ ‏ “‏ اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعاً نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلاً غَيْرَ آجِلٍ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ ‏.‏

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہکچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بارش نہ ہونے کی شکایت لے کر ) روتے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی : «اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا نافعا غير ضار عاجلا غير آجل» یعنی ” اے اللہ ! ہمیں سیراب فرما ، ایسی بارش سے جو ہماری فریاد رسی کرنے والی ہو ، اچھے انجام والی ہو ، سبزہ اگانے والی ہو ، نفع بخش ہو ، مضرت رساں نہ ہو ، جلد آنے والی ہو ، تاخیر سے نہ آنے والی ہو “ ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ کہتے ہی ان پر بادل چھا گیا ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah:

The people came to the Prophet (ﷺ) weeping (due to drought). He said (making supplication): O Allah! give us rain which will replenish us, abundant, fertilising and profitable, not injurious, granting it now without delay. He (the narrator) said: Thereupon the sky became overcast.

Scroll to Top