حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ يَأْكُلُ فِي سَوَادٍ وَيَمْشِي فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ .
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : تو ہم کو اس میں کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی “ لوگوں نے عرض کیا : اور بھیڑ میں اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھیڑ میں ( بھی ) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے “ ۔