حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِهِ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهَا .
ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا ، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کس شخص نے ذبح کیا ہے “ ؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا ، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا ، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا ، اس شخص نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسی کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہو گا “ ۔