۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 26

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا، مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، شَكَّ النَّاسُ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ‏.‏

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا اور ان سے سالم ابوالنصر نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ام فضل کے غلام عمیر سے سنا ، انہوں نے ام فضل ر ضی اللہ عنہا سے کہعرفہ کے دن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا ، اس لیے میں نے آپ کو پینے کے لیے کچھ بھیجا جسے آپ نے پی لیا ۔

Narrated Um Al-Fadl:

The people doubted whether the Prophet (ﷺ) was observing the fast on the Day of `Arafat, so I sent something for him to drink and he drank it.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top