۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 22

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَحَانَتِ الصَّلاَةُ، فَجَاءَ بِلاَلٌ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ فَقَالَ حُبِسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَتَؤُمُّ النَّاسَ قَالَ نَعَمْ إِنْ شِئْتُمْ‏.‏ فَأَقَامَ بِلاَلٌ الصَّلاَةَ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ فَصَلَّى، فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ يَشُقُّهَا شَقًّا حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ الأَوَّلِ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِالتَّصْفِيحِ‏.‏ قَالَ سَهْلٌ هَلْ تَدْرُونَ مَا التَّصْفِيحُ هُوَ التَّصْفِيقُ‏.‏ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ لاَ يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا الْتَفَتَ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّفِّ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ مَكَانَكَ‏.‏ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى‏.‏

ہم سے عمرو بن عیسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعبدالصمد العمی عبد العزیز بن عبدالصمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابووائل نے بیان کیا ، ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہہم پہلے نماز میں یوں کہا کرتے تھے فلاں پر سلام اور نام لیتے تھے ۔ اور آپس میں ایک شخص دوسرے کو سلام کر لیتا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا اس طرح کہا کرو ۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات ،‏‏‏‏ السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ،‏‏‏‏ السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين ،‏‏‏‏ أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” یعنی ساری تحیات ، بندگیاں اور کوششیں اور اچھی باتیں خاص اللہ ہی کے لیے ہیں اور اے نبی ! آپ پر سلام ہو ، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ ہم پر سلام ہو اور اللہ کے سب نیک بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں “ ۔ اگر تم نے یہ پڑھ لیا تو گویا اللہ کے ان تمام صالح بندوں پر سلام پہنچا دیا جو آسمان اور زمین میں ہیں ۔

Narrated Sahl bin Sa`d:

The Prophet (ﷺ) went out to affect a reconciliation between the tribes of Bani `Amr bin `Auf and the time of the prayer became due; Bilal went to Abu Bakr and said, “The Prophet (ﷺ) is detained. Will you lead the people in the prayer?” Abu Bakr replied, “Yes, if you wish.” So Bilal pronounced the Iqama and Abu Bakr led the prayer. In the meantime the Prophet (ﷺ) came crossing the rows (of the praying people) till he stood in the first row and the people started clapping. Abu Bakr never looked hither and thither during the prayer but when the people clapped too much, he looked back and saw the Prophet (ﷺ) in the (first) row. The Prophet (ﷺ) waved him to remain at his place, but Abu Bakr raised both his hands and sent praises to Allah and then retreated and the Prophet (ﷺ) went forward and led the prayer. (See Hadith No. 295 & 296)

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top