۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 22

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ كُنَّا بِالأَهْوَازِ نُقَاتِلُ الْحَرُورِيَّةَ، فَبَيْنَا أَنَا عَلَى جُرُفِ نَهَرٍ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي، وَإِذَا لِجَامُ دَابَّتِهِ بِيَدِهِ فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تُنَازِعُهُ، وَجَعَلَ يَتْبَعُهَا ـ قَالَ شُعْبَةُ ـ هُوَ أَبُو بَرْزَةَ الأَسْلَمِيُّ ـ فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ يَقُولُ اللَّهُمَّ افْعَلْ بِهَذَا الشَّيْخِ‏.‏ فَلَمَّا انْصَرَفَ الشَّيْخُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ قَوْلَكُمْ، وَإِنِّي غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَثَمَانِيًا، وَشَهِدْتُ تَيْسِيرَهُ، وَإِنِّي أَنْ كُنْتُ أَنْ أُرَاجِعَ مَعَ دَابَّتِي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَدَعَهَا تَرْجِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقَّ عَلَىَّ‏.‏

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، ان سے عروہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہجب سورج گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے اور ایک لمبی سورت پڑھی ۔ پھر رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا ۔ پھر سر اٹھایا اس کے بعد دوسری سورت شروع کر دی ، پھر رکوع کیا اور رکوع پورا کر کے اس رکعت کو ختم کیا اور سجدے میں گئے ۔ پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ اس لیے جب تم ان میں گرہن دیکھو تو نماز شروع کر دو جب تک کہ یہ صاف ہو جائے اور دیکھو میں نے اپنی اسی جگہ سے ان تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جن کا مجھ سے وعدہ ہے ۔ یہاں تک کہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں جنت کا ایک خوشہ لینا چاہتا ہوں ۔ ابھی تم لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ میں آگے بڑھنے لگا تھا اور میں نے دوزخ بھی دیکھی ( اس حالت میں کہ ) بعض آگ بعض آگ کو کھائے جا رہی تھی ۔ تم لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ جہنم کے اس ہولناک منظر کو دیکھ کر میں پیچھے ہٹ گیا تھا ۔ میں نے جہنم کے اندر عمرو بن لحیی کو دیکھا ۔ یہ وہ شخص ہے جس نے سانڈ کی رسم عرب میں جاری کی تھی ۔ ( نوٹ : سانڈ کی رسم سے مراد کہ اونٹنی کو غیر اللہ کے نام پر چھوڑ دینا حتیٰ کہ سواری اور دودھ بھی نہ دھونا ۔ )

Narrated Al-Azraq bin Qais:

We were at Al-Ahwaz fighting the Al-Haruriya (tribe). While I was at the bank of a river a man was praying and the reins of his animal were in his hands and the animal was struggling and he was following the animal. (Shu`ba, a sub-narrator, said that man was Abu Barza Al-Aslami). A man from the Khawarij said, “O Allah! Be harsh to this sheik.” And when the sheik (Abu Barza) finished his prayer, he said, “I heard your remark. No doubt, I participated with Allah’s Messenger (ﷺ) in six or seven or eight holy battles and saw his leniency, and no doubt, I would rather retain my animal than let it return to its stable, as it would cause me much trouble. “

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top