۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 22

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كُنْتُ أَمُدُّ رِجْلِي فِي قِبْلَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَرَفَعْتُهَا، فَإِذَا قَامَ مَدَدْتُهَا‏.‏

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شبابہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک نماز پڑھی پھر فرمایا کہ میرے سامنے ایک شیطان آ گیا اور کوشش کرنے لگا کہ میری نماز توڑ دے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے قابو میں کر دیا میں نے اس کا گلا گھونٹایا اس کو دھکیل دیا ۔ آخر میں میرا ارادہ ہوا کہ اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں اور جب صبح ہو تو تم بھی دیکھو ۔ لیکن مجھے سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی ” اے اللہ ! مجھے ایسی سلطنت عطا کیجیو جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے “ ( اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا ) اور اللہ تعالیٰ نے اسے ذلت کے ساتھ بھگا دیا ۔ اس کے بعد نضر بن شمیل نے کہا کہ «ذعته» ” ذال “ سے ہے ۔ جس کے معنی ہیں کہ میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور «دعته» اللہ تعالیٰ کے اس قول سے لیا گیا ہے ۔ «يوم يدعون‏» جس کے معنی ہیں قیامت کے دن وہ دوزخ کی طرف دھکیلے جائیں گے ۔ درست پہلا ہی لفظ ہے ۔ البتہ شعبہ نے اسی طرح ” عین “ اور ” تاء “ کی تشدید کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

Narrated Aisha:

I used to stretch my legs towards the Qibla of the Prophet (ﷺ) while he was praying; whenever he prostrated he touched me, and I would withdraw my legs, and whenever he stood up, I would restretch my legs.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top