۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، جَمِيعًا عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ مَرَّ بِي خَالِي – سَمَّاهُ هُشَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو – وَقَدْ عَقَدَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِوَاءً فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ فَقَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ ‏.‏

سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہجب حدود کی آیت نازل ہوئی تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے جو ایک غیرت مند شخص تھے ، پوچھا گیا : اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو اس وقت آپ کیا کریں گے ؟ جواب دیا : میں تلوار سے ان دونوں کی گردن اڑا دوں گا ، کیا میں چار گواہ ملنے کا انتظار کروں گا ؟ اس وقت تک تو وہ اپنی ضرورت پوری کر کے چلا جائے گا ، اور پھر میں لوگوں سے کہتا پھروں کہ فلاں شخص کو میں نے ایسا اور ایسا کرتے دیکھا ہے ، اور وہ مجھے حد قذف لگا دیں ، اور میری گواہی قبول نہ کریں ، پھر سعد رضی اللہ عنہ کی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” ( غلط حالت میں ) تلوار سے دونوں کو قتل کر دینا ہی سب سے بڑی گواہی ہے “ ، پھر فرمایا : ” نہیں “ میں اس کی اجازت نہیں دیتا ، مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح غیرت مندوں کے ساتھ متوالے بھی ایسا کرنے لگیں گے ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا ہے کہ یہ علی بن محمد طنافسی کی حدیث ہے ، اور مجھے اس میں کا کچھ حصہ یاد نہیں رہا ۔

It was narrated that Bara bin Azib said:
“My maternal uncle passed by me – (one of the narrators) Hushaim named him in his narration as Harith bin Amr – and the Prophet (ﷺ) had given him a banner to carry. I said to him: ‘Where are you going?’ He said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) has sent me to a man who married his father’s wife after he died, and has commanded me to strike his neck (i.e. execute him).”

Scroll to Top