حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الثِّمَارِ فَقَالَ ” مَا أُخِذَ فِي أَكْمَامِهِ فَاحْتُمِلَ فَثَمَنُهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَمَا كَانَ فِي الْجِرَانِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ وَإِنْ أَكَلَ وَلَمْ يَأْخُذْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ ” . قَالَ الشَّاةُ الْحَرِيسَةُ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ” ثَمَنُهَا وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ وَمَا كَانَ فِي الْمُرَاحِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا كَانَ مَا يَأْخُذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ ” .
صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہوہ مسجد میں سو گئے ، اور اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا ، کسی نے ان کے سر کے نیچے سے اسے نکال لیا ، وہ چور کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹے جانے کا حکم دیا ، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا مقصد یہ نہ تھا ، میری چادر اس کے لیے صدقہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے آخر میرے پاس اسے لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا “ ؟ ۱؎ ۔