۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 21

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَقَالَ ‏”‏ مَا هَذَا الْحَبْلُ ‏”‏‏.‏ قَالُوا هَذَا حَبْلٌ لِزَيْنَبَ فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ لاَ، حُلُّوهُ، لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ ‏”‏‏.‏

اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، ان سے مالک رحمہ اللہ نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہمیرے پاس بنو اسد کی ایک عورت بیٹھی تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ میں نے کہا کہ یہ فلاں خاتون ہیں جو رات بھر نہیں سوتیں ۔ ان کی نماز کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بس تمہیں صرف اتنا ہی عمل کرنا چاہیے جتنے کی تم میں طاقت ہو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ( ثواب دینے سے ) تھکتا ہی نہیں تم ہی عمل کرتے کرتے تھک جاؤ گے ۔

Narrated Anas bin Malik

Once the Prophet (p.b.u.h) entered the Mosque and saw a rope hanging in between its two pillars. He said, “What is this rope?” The people said, “This rope is for Zainab who, when she feels tired, holds it (to keep standing for the prayer.)” The Prophet (ﷺ) said, “Don’t use it. Remove the rope. You should pray as long as you feel active, and when you get tired, sit down.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top