حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لاَ يَصُومَ مِنْهُ، وَيَصُومُ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لاَ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا، وَكَانَ لاَ تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلاَّ رَأَيْتَهُ وَلاَ نَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتَهُ. تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ حُمَيْدٍ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں ابوالزناد نے ، انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہرسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ افسوں پھونک دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کی یاد کرنے لگا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے ۔ پھر اگر نماز ( فرض یا نفل ) پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے ۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق و چوبند خوش مزاج رہتا ہے ۔ ورنہ سست اور بدباطن رہتا ہے ۔
Narrated Anas bin Malik:
Sometimes Allah’s Messenger (ﷺ) would not fast (for so many days) that we thought that he would not fast that month and he sometimes used to fast (for so many days) that we thought he would not leave fasting throughout that month and (as regards his prayer and sleep at night), if you wanted to see him praying at night, you could see him praying and if you wanted to see him sleeping, you could see him sleeping.
USC-MSA web (English) reference