حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ “ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا فَإِنْ لَمْ تُعْرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِعَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ” .
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سال بھر اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو ، اگر کوئی اس کی ( پہچان ) کر لے تو اسے دے دو ، ورنہ اس کی تھیلی اور اس کا بندھن یاد رکھو ، پھر اس کو اپنے کھانے میں استعمال کر لو ، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے ادا کر دو “ ۱؎ ۔