حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ إِسْحَاقَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلاَثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنْ يَهُودَ فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرٌ فَأَبَى فَكَلَّمَ جَابِرٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ عَلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ وَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُنْظِرَهُ فَأَبَى . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہان کے والد انتقال کر گئے اور اپنے ذمہ ایک یہودی کا تیس وسق کھجور کا قرضہ چھوڑ گئے ، جابر رضی اللہ عنہ نے اس سے مہلت مانگی تو اس نے ( مہلت دینے سے ) انکار کر دیا ، تو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی کہ آپ چل کر اس سے سفارش کر دیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور یہودی سے بات کی کہ وہ ( اپنے قرض کے بدلے میں ) ان کے کھجور کے باغ میں جتنے پھل ہیں لے لے لیکن اس نے انکار کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : ” اچھا جابر کو مہلت دے دو “ ، اس نے اس سے بھی انکار کیا ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎ ۔