حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَسُولاً – قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ – وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ “ لاَ يُبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ وَلاَ قِلاَدَةٌ إِلاَّ قُطِعَتْ ” . قَالَ مَالِكٌ أَرَى أَنَّ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ الْعَيْنِ .
ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا ، لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے : ” کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ باقی نہ رہے ، اور نہ ہی کوئی اور قلادہ ہو مگر اسے کاٹ دیا جائے “ ۔ مالک کہتے ہیں : میرا خیال ہے لوگ یہ گنڈا نظر بد سے بچنے کے لیے باندھتے تھے ۔