حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَحْمَدُ : كَذَا قَالَ هُوَ – يَعْنِي ابْنَ وَهْبٍ – وَعَنْبَسَةُ – يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ – جَمِيعًا عَنْ يُونُسَ قَالَ أَحْمَدُ : وَالصَّوَابُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالاً شَدِيدًا، فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ – وَشَكُّوا فِيهِ – : رَجُلٌ مَاتَ بِسِلاَحِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : ” مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا ” . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : ” كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ” .
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہجب جنگ خیبر ہوئی تو میرے بھائی بڑی شدت سے لڑے ، ان کی تلوار اچٹ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کا خاتمہ کر دیا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے سلسلے میں باتیں کی اور ان کی شہادت کے بارے میں انہیں شک ہوا تو کہا کہ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے مر گیا ہو ( وہ کیسے شہید ہو سکتا ہے ؟ ) ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اللہ کے راستہ میں کوشش کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے “ ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں : پھر میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے اسی کے مثل بیان کیا ، مگر اتنا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں نے جھوٹ کہا ، وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے ، اسے دوہرا اجر ملے گا “ ۔