حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { إِلاَّ تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا } وَ { مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ } إِلَى قَوْلِهِ { يَعْمَلُونَ } نَسَخَتْهَا الآيَةُ الَّتِي تَلِيهَا { وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً }
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں«إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» ” اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا “ ( سورۃ التوبہ : ۳۹ ) اور « ما كان لأهل المدينة» سے «يعملون » ” مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں “ ( سورۃ التوبہ : ۱۰ ) کو بعد والی آیت «وما كان المؤمنون لينفروا كافة» ” مناسب نہیں کہ مسلمان سب کے سب جہاد کے لیے نکل پڑیں “ ( سورۃ التوبہ : ۱۲۲ ) نے منسوخ کر دیا ہے ۔