حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، – الْمَعْنَى – عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلاً كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا . زَادَ ابْنُ مَوْهَبٍ فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے ، ان لوگوں کو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے ، ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے ، اور ایک ایک اونٹ انہیں بطور نفل ( انعام ) دئیے گئے ۔ ابن موہب کی روایت میں یہ اضافہ ہے : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تقسیم کو بدلا نہیں ۔