۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، عَنِ الْخَلِيلِ، أَوِ ابْنِ الْخَلِيلِ قَالَ أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ – رضى الله عنه – فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ مِنْ ثَلاَثٍ نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرِ الْيَمَنَ وَلاَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ قَوْلَهُ طِيبَا بِالْوَلَدِ ‏.‏

خلیل یا ابن خلیل کہتے ہیں کہعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا مقدمہ لایا گیا جس نے تین آدمیوں سے صحبت کے بعد ایک لڑکا جنا تھا ، آگے اسی طرح کی روایت ہے اس میں نہ تو انہوں نے یمن کا ذکر کیا ہے ، نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ، اور نہ ( علی رضی اللہ عنہ کے ) اس قول کا کہ خوشی سے تم دونوں لڑکے کو اسے ( تیسرے کو ) دے دو ۔

Khalil or Ibn Khalil said “A woman was brought to Ali bin Abi Talib(may Allaah be pleased with him). She bore a child from intercourse of three persons. The narrator transmitted the rest of the tradition similar to the previous one. But in this version he did not mention “Yemen” and the Prophet (ﷺ) and his words “give the child willingly.”

Scroll to Top