۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 15

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَضْحَى بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏”‏ مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّهُ قَبْلَ الصَّلاَةِ، وَلاَ نُسُكَ لَهُ ‏”‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ خَالُ الْبَرَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِّي نَسَكْتُ شَاتِي قَبْلَ الصَّلاَةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ، وَأَحْبَبْتُ أَنْ تَكُونَ شَاتِي أَوَّلَ مَا يُذْبَحُ فِي بَيْتِي، فَذَبَحْتُ شَاتِي وَتَغَدَّيْتُ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الصَّلاَةَ‏.‏ قَالَ ‏”‏ شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏”‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا لَنَا جَذَعَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَيْنِ، أَفَتَجْزِي عَنِّي قَالَ ‏”‏ نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏”‏‏.‏

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ، انہیں عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح نے ، انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ، آپ نے کہا کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن ( مدینہ کے باہر ) عیدگاہ تشریف لے جاتے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے ، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے ۔ تمام لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وعظ و نصیحت فرماتے ، اچھی باتوں کا حکم دیتے ۔ اگر جہاد کے لیے کہیں لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو اس کو الگ کرتے ۔ کسی اور بات کا حکم دینا ہوتا تو وہ حکم دیتے ۔ اس کے بعد شہر کو واپس تشریف لاتے ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ برابر اسی سنت پر قائم رہے لیکن معاویہ کے زمانہ میں مروان جو مدینہ کا حاکم تھا پھر میں اس کے ساتھ عیدالفطر یا عیدالاضحی کی نماز کے لیے نکلا ہم جب عیدگاہ پہنچے تو وہاں میں نے کثیر بن صلت کا بنا ہوا ایک منبر دیکھا ۔ جاتے ہی مروان نے چاہا کہ اس پر نماز سے پہلے ( خطبہ دینے کے لیے ) چڑھے اس لیے میں نے ان کا دامن پکڑ کر کھینچا اور لیکن وہ جھٹک کر اوپر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے خطبہ دیا ۔ میں نے اس سے کہا کہ واللہ تم نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ) بدل دیا ۔ مروان نے کہا کہ اے ابوسعید ! اب وہ زمانہ گزر گیا جس کو تم جانتے ہو ۔ ابوسعید نے کہا کہ بخدا میں جس زمانہ کو جانتا ہوں اس زمانہ سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا ۔ مروان نے کہا کہ ہمارے دور میں لوگ نماز کے بعد نہیں بیٹھتے ، اس لیے میں نے نماز سے پہلے خطبہ کو کر دیا ۔

Narrated Al-Bara’ bin `Azib:

The Prophet (ﷺ) delivered the Khutba after offering the prayer on the Day of Nahr and said, “Whoever offers the prayer like us and slaughters like us then his Nusuk (sacrifice) will be accepted by Allah. And whoever slaughters his sacrifice before the `Id prayer then he has not done the sacrifice.” Abi Burda bin Niyar, the uncle of Al-Bara’ said, “O Allah’s Messenger (ﷺ)! I have slaughtered my sheep before the `Id prayer and I thought today as a day of eating and drinking (not alcoholic drinks), and I liked that my sheep should be the first to be slaughtered in my house. So slaughtered my sheep and took my food before coming for the prayer.” The Prophet (ﷺ) said, “The sheep which you have slaughtered is just mutton (not a Nusuk).” He (Abu Burda) said, “O Allah’s Messenger (ﷺ)! I have a young she-goat which is dearer to me than two sheep. Will that be sufficient as a Nusuk on my behalf? “The Prophet (p.b.u.h) said, “Yes, it will be sufficient for you but it will not be sufficient (as a Nusuk) for anyone else after you.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top