حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ” مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ أَفْضَلَ مِنَ الْعَمَلِ فِي هَذِهِ ”. قَالُوا وَلاَ الْجِهَادُ قَالَ ” وَلاَ الْجِهَادُ، إِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَىْءٍ ”.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے امام مالک بن انس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے محمد بن ابی بکر ثقفی نے بیان کیا ، کہا کہمیں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تلبیہ کے متعلق دریافت کیا کہ آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسے کس طرح کہتے تھے ۔ اس وقت ہم منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے ، انہوں نے فرمایا کہ تلبیہ کہنے والے تلبیہ کہتے اور تکبیر کہنے والے تکبیر ۔ اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا ۔
Narrated Ibn `Abbas:
The Prophet (ﷺ) said, “No good deeds done on other days are superior to those done on these (first ten days of Dhul Hijja).” Then some companions of the Prophet (ﷺ) said, “Not even Jihad?” He replied, “Not even Jihad, except that of a man who does it by putting himself and his property in danger (for Allah’s sake) and does not return with any of those things.”
USC-MSA web (English) reference