۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 15

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ كَيْفَ هُوَ فَقَالَ صَالِحٌ‏.‏ فَقَالَ مَنْ أَصَابَكَ قَالَ أَصَابَنِي مَنْ أَمَرَ بِحَمْلِ السِّلاَحِ فِي يَوْمٍ لاَ يَحِلُّ فِيهِ حَمْلُهُ، يَعْنِي الْحَجَّاجَ‏.‏

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے زبید سے بیان کیا ، ان سے شعبی نے ، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے کہا کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن سب سے پہلے ہمیں نماز پڑھنی چاہیے پھر ( خطبہ کے بعد ) واپس آ کر قربانی کرنی چاہیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو یہ ایک ایسا گوشت ہو گا جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی سے تیار کر لیا ہے ، یہ قربانی قطعا نہیں ۔ اس پر میرے ماموں ابوبردہ بن نیار نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ ! میں نے تو نماز کے پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا ۔ البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دانت نکلی بکری سے بھی زیادہ بہتر ہے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بدلہ میں اسے سمجھ لویا یہ فرمایا کہ اسے ذبح کر لو اور تمہارے بعد یہ ایک سال کی پٹھیا کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی ۔

Narrated Sa`id bin `Amr bin Sa`id bin Al-`Aas:

Al-Hajjaj went to Ibn `Umar while I was present there. Al-Hajjaj asked Ibn `Umar, “How are you?” Ibn `Umar replied, “I am all right,” Al-Hajjaj asked, “Who wounded you?” Ibn `Umar replied, “The person who allowed arms to be carried on the day on which it was forbidden to carry them (he meant Al-Hajjaj).”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top