حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ – تَعْنِي فِي مَرَضِهِ – فَاجْتَمَعْنَ فَقَالَ “ إِنِّي لاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ فَإِنْ رَأَيْتُنَّ أَنْ تَأْذَنَّ لِيَ فَأَكُونَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَعَلْتُنَّ ” . فَأَذِنَّ لَهُ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا ، وہ جمع ہوئیں تو فرمایا : ” اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں ، اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں “ ، چنانچہ ان سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اجازت دے دی ۔