حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ قَالَ حَفْصٌ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ – ثُمَّ اتَّفَقَا – قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ . فَقَالَ “ انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ ” .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہرسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، ان کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ، ( حفص کی روایت میں ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری ، آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا ( پھر حفص اور شعبہ دونوں کی روایتیں متفق ہیں ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول یہ تو میرا رضاعی بھائی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھی طرح دیکھ لو کون تمہارے بھائی ہیں ؟ کیونکہ رضاعت تو غذا سے ثابت ہوتی ہے ۱؎ “ ۔