حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ “ إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ . وَلَكِنْ لِيَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ ” .
عبدالرحمٰن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں کہجس دن مکہ فتح ہوا ، وہ اپنے والد کو لے کر آئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد کو ہجرت کے ثواب سے ایک حصہ دلوائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب ہجرت نہیں ہے ، آخر وہ چلا گیا ، اور عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : آپ نے مجھے پہچانا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر عباس رضی اللہ عنہ ایک قمیص پہنے ہوئے نکلے ان پر چادر بھی نہ تھی عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ میں اور فلاں شخص میں جو تعلقات ہیں وہ آپ کو معلوم ہیں ، اور وہ اپنے والد کو لے کر آیا ہے تاکہ آپ اس سے ہجرت پہ بیعت کر لیں ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب ہجرت نہیں رہی “ ، عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ کو قسم دیتا ہوں ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، اور اس کا ہاتھ چھو لیا ، اور فرمایا : ” میں نے اپنے چچا کی قسم پوری کی ، لیکن ہجرت تو نہیں رہی “ ۔