۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 11

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأَتَأَخَّرُ عَنِ الصَّلاَةِ فِي الْفَجْرِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فُلاَنٌ فِيهَا‏.‏ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِي مَوْضِعٍ كَانَ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ ‏ “‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَمَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ خَلْفَهُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ ‏”‏‏.‏

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا ، آپ نے بتلایا کہایک شخص پانی اٹھانے والا دو اونٹ لئے ہوئے آیا ، رات تاریک ہو چکی تھی ۔ اس نے معاذ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھاتے ہوئے پایا ۔ اس لیے اپنے اونٹوں کو بٹھا کر ( نماز میں شریک ہونے کے لیے ) معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا ۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں سورۃ البقرہ یا سورۃ نساء شروع کی ۔ چنانچہ وہ شخص نیت توڑ کر چل دیا ۔ پھر اسے معلوم ہوا کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو برا بھلا کہا ہے ۔ اس لیے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور معاذ کی شکایت کی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ، معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ( «فتان» یا «فاتن» ) فرمایا : «سبح اسم ربك ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والشمس وضحاها ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والليل إذا يغشى» ( سورتیں ) تم نے کیوں نہ پڑھیں ، کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے ، کمزور اور حاجت مند نماز پڑھتے ہیں ۔ شعبہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ آخری جملہ ( کیونکہ تمہارے پیچھے الخ ) حدیث میں داخل ہے ۔ شعبہ کے ساتھ اس کی متابعت سعید بن مسروق ، مسعر اور شیبانی نے کی ہے اور عمرو بن دینار ، عبیداللہ بن مقسم اور ابوالزبیر نے بھی اس حدیث کو جابر کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ معاذ نے عشاء میں سورۃ البقرہ پڑھی تھی اور شعبہ کے ساتھ اس روایت کی متابعت اعمش نے محارب کے واسطہ سے کی ہے ۔

Narrated Abu Mas`ud:

A man came and said, “O Allah’s Messenger (ﷺ)! I keep away from the morning prayer because so-and-so (Imam) prolongs it too much.” Allah’s Messenger (ﷺ) became furious and I had never seen him more furious than he was on that day. The Prophet (ﷺ) said, “O people! Some of you make others dislike the prayer, so whoever becomes an Imam he should shorten the prayer, as behind him are the weak, the old and the needy.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top