حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلاَنٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا. فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ “ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ ”.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب کوئی تم میں سے لوگوں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے کیونکہ جماعت میں ضعیف بیمار اور بوڑھے ( سب ہی ) ہوتے ہیں ، لیکن اکیلا پڑھے تو جس قدر جی چاہے طول دے سکتا ہے ۔
Narrated Abu Mas`ud:
A man came and said, “O Allah’s Messenger (ﷺ)! By Allah, I keep away from the morning prayer only because So and so prolongs the prayer when he leads us in it.” The narrator said, “I never saw Allah’s Apostle more furious in giving advice than he was at that time. He then said, “Some of you make people dislike good deeds (the prayer). So whoever among you leads the people in prayer should shorten it because among them are the weak, the old and the needy.”
USC-MSA web (English) reference