حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ ذَكَرَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ امْرَأَةً مِنْ بَلْعِجْلاَنَ فَدَخَلَ بِهَا فَبَاتَ عِنْدَهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ فَرُفِعَ شَأْنُهَا إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَدَعَا الْجَارِيَةَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ بَلَى قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ . فَأَمَرَ بِهِمَا فَتَلاَعَنَا وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہقبیلہ انصار کے ایک شخص نے قبیلہ بنی عجلان کی ایک عورت سے شادی کی ، اور اس کے پاس رات گزاری ، جب صبح ہوئی تو کہنے لگا : میں نے اسے کنواری نہیں پایا ، آخر دونوں کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی کو بلایا ، اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا : میں تو کنواری تھی ، پھر آپ نے حکم دیا تو دونوں نے لعان کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مہر دلوا دیا ۔