حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ . فَقَالَ رَجُلٌ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ وَاللَّهِ لأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَاتِ اللِّعَانِ . ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ بَعْدَ ذَلِكَ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ فَلاَعَنَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَيْنَهُمَا وَقَالَ “ عَسَى أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ ” . فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہہم جمعہ کی رات کو مسجد میں تھے کہ ایک شخص آ کر کہنے لگا اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے ، پھر اس کو مار ڈالے ، تو تم لوگ اس کو مار ڈالو گے ، اور اگر زبان سے کچھ کہے تو تم اسے کوڑے لگاؤ گے ، اللہ کی قسم میں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر ضرور کروں گا ، آخر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تب اللہ تعالیٰ نے لعان کی آیتیں نازل فرمائیں ، پھر وہ آیا اور اس نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا اور فرمایا : ” میرا گمان ہے کہ شاید اس عورت کا بچہ کالا ہی پیدا ہو “ چنانچہ ایسا ہی ہوا ، اس کے یہاں کالا گھونگھریالے بال والا بچہ پیدا ہوا ۔