۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ ‏”‏ سِقَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ ‏”‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ ‏”‏ خُذْهَا ‏”‏ ‏.‏ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ وَقَالَ فِي اللُّقَطَةِ ‏”‏ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ فَشَأْنَكَ بِهَا ‏”‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ ‏”‏ اسْتَنْفِقْ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَسُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ رَبِيعَةَ مِثْلَهُ لَمْ يَقُولُوا ‏”‏ خُذْهَا ‏”‏ ‏.‏

اس سند سے بھی مالک سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہےالبتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ : ” وہ اپنی سیرابی کے لیے پانی پر آ جاتا ہے اور درخت کھا لیتا ہے “ ، اس روایت میں گمشدہ بکری کے سلسلے میں «خذها» ( اسے پکڑ لو ) کا لفظ نہیں ہے ، البتہ لقطہٰ کے سلسلے میں فرمایا : ” ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ، اگر اس کا مالک آ جائے تو بہتر ہے ورنہ تم خود اس کو استعمال کر لو “ ، اس میں «استنفق» کا لفظ نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ثوری ، سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے اسے ربیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے «خذها» کا لفظ نہیں کہا ہے ۔

The above mentioned tradition has also been transmitted by Malik through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:

They have their stomachs: They can go down to water and eat trees. He did not say about the stray sheep: take it. About a find he said : Make it known for a year; if it’s owner comes, (give it to him), otherwise use it yourself. This version has not the word : “ spend it”.

Abu Dawud said : This tradition has been narrated by al-Thawri, Sulaiman bin Bilal, and Hammad bin Salamah on the authority of Rabi ‘ ah in a similar manner. They did not mention the word “take it”.

Scroll to Top