حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَكَانَ رَجُلاً دَمِيمًا . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَوْلاَ مَخَافَةُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ عَلَىَّ لَبَصَقْتُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ “ أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ” . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ . قَالَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہحبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں ، وہ ناٹے اور بدصورت آدمی تھے ، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا تو ثابت جب میرے پاس آئے تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم ان کا باغ واپس لوٹا دو گی “ ؟ کہا : ہاں ، اور ان کا باغ انہیں واپس دے دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی ۔