حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ،، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَقَالَ قَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم. أَوْ قَالَ لَقَدْ صَلَّى بِنَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے عقیل بن خالد کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے خبری دی کہانہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بتلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے ۔ پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے تھے ۔ پھر جب سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» کہتے اور کھڑے ہی کھڑے «ربنا لك الحمد» کہتے ۔ پھر جب ( دوسرے ) سجدہ کے لیے جھکتے تب تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے ۔ اسی طرح آپ تمام نماز پوری کر لیتے تھے ۔ قعدہ اولیٰ سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے ۔ ( اس حدیث میں ) عبداللہ بن صالح نے لیث کے واسطے سے ( بجائے «ربنا لك الحمد» کے ) «ربنا ولك الحمد» نقل کیا ہے ۔ ( «ربنا لك الحمد» کہے یا «ربنا ولك الحمد» واؤ کے ساتھ ہر دو طریقہ درست ہے ) ۔
Narrated Mutarrif bin `Abdullah:
`Imran bin Husain and I offered the prayer behind `Ali bin Abi Talib. When `Ali prostrated, he said the Takbir, when he raised his head, he said the Takbir and when he got up for the third rak`a he said the Takbir. On completion of the prayer `Imran took my hand and said, “This (i.e. `Ali) made me remember the prayer of Muhammad” Or he said, “He led us in a prayer like that of Muhammad.”
USC-MSA web (English) reference