۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 12

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، وَهْوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَىِ النَّاسِ، فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ ‏ “‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلاَ يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلاَةِ ‏”‏‏.‏ رَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَابْنُ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ‏.‏

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالملک بن عمیر نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ، کہا کہاہل کوفہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے شکایت کی ۔ اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو مغزول کر کے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنایا ، تو کوفہ والوں نے سعد کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ وہ تو اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھا سکتے ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بلا بھیجا ۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اے ابواسحاق ! ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے ہو ۔ اس پر آپ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا ، اس میں کوتاہی نہیں کرتا عشاء کی نماز پڑھاتا تو اس کی دو پہلی رکعات میں ( قرآت ) لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے ابواسحاق ! مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی ۔ پھر آپ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک یا کئی آدمیوں کو کوفہ بھیجا ۔ قاصد نے ہر ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا ۔ سب نے آپ کی تعریف کی لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے ۔ تو ایک شخص جس کا نام اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابوسعدہ تھی کھڑا ہوا ۔ اس نے کہا کہ جب آپ نے خدا کا واسطہ دے کر پوچھا ہے تو ( سنیے کہ ) سعد نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے ، نہ مال غنیمت کی تقسیم صحیح کرتے تھے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتے تھے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ( یہ سن کر ) فرمایا کہ خدا کی قسم میں ( تمہاری اس بات پر ) تین دعائیں کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمردراز کر اور اسے خوب محتاج بنا اور اسے فتنوں میں مبتلا کر ۔ اس کے بعد ( وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ ) جب اس سے پوچھا جاتا تو کہتا کہ ایک بوڑھا اور پریشان حال ہوں مجھے سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا لگ گئی ۔ عبدالملک نے بیان کیا کہ میں نے اسے دیکھا اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آ گئی تھی ۔ لیکن اب بھی راستوں میں وہ لڑکیوں کو چھیڑتا ۔

Narrated Ibn `Umar:

The Prophet (ﷺ) saw expectoration in the direction of the Qibla of the mosque while he was leading the prayer, and scratched it off. After finishing the prayer, he said, “Whenever any of you is in prayer he should know that Allah is in front of him. So none should spit in front of him in the prayer.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top