حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، – قَالَ ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ – أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، – يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ – عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ “ مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ – إِنْ كَانَ لَهَا – وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا وَمَنْ لَغَا وَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا ” .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے ، اپنی عورت کی خوشبو میں سے اگر اس کے پاس ہو لگائے ، اپنے اچھے کپڑے زیب تن کرے ، پھر لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے اور خطبہ کے وقت بیکار کام نہ کرے ، تو یہ اس جمعہ سے اس ( یعنی پچھلے ) جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا ، اور جو بلا ضرورت ( بیہودہ ) باتیں بکے ، اور لوگوں کی گردنیں پھاندے ، تو وہ جمعہ اس کے لیے ظہر ہو گا “ ۔