حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، – يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ – أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فَقَالَ “ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ ” . وَضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ شَكَّ سَلَمَةُ وَقَالَ لاَ أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ . يَعْنِي أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ .
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابزی سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے یہی قصہ مروی ہے ، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں بس اتنا کر لینا کافی تھا “ ، اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا ، پھر اس میں پھونک مار کر اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لیا ، سلمہ کو شک ہے ، وہ کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ اس میں «إلى المرفقين» ہے یا «إلى الكفين.» ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنیوں تک پھیرا ، یا پہونچوں تک ) ۔