حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا سَلاَّمُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَتْ أَسْمَاءُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْمَحِيضِ قَالَ “ تَأْخُذُ سِدْرَهَا وَمَاءَهَا فَتَوَضَّأُ ثُمَّ تَغْسِلُ رَأْسَهَا وَتَدْلُكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْمَاءُ أُصُولَ شَعْرِهَا ثُمَّ تُفِيضُ عَلَى جَسَدِهَا ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَتَهَا فَتَطَّهَّرُ بِهَا ” . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَعَرَفْتُ الَّذِي يَكْنِي عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهَا تَتَّبِعِينَ بِهَا آثَارَ الدَّمِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہاسماء ( اسماء بنت شکل انصاریہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! جب ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہو تو وہ کس طرح غسل کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے کر وضو کرے ، پھر اپنا سر دھوئے ، اور اسے ملے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہائے ، پھر روئی کا پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرے “ ۔ اسماء نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس ( پھاہے ) سے طہارت کس طرح حاصل کروں ؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کنایۃً کہی وہ میں سمجھ گئی ، چنانچہ میں نے ان سے کہا : تم اسے خون کے نشانات پر پھیرو ۔