حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، – رضى الله عنه – قَالَ كُنْتُ رَجُلاً مَذَّاءً فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم – أَوْ ذُكِرَ لَهُ – فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم “ لاَ تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْىَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاَةِ فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ ” .
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہمیں ایک ایسا آدمی تھا جسے مذی ۱؎ بہت نکلا کرتی تھی ، تو میں باربار غسل کرتا تھا ، یہاں تک کہ میری پیٹھ پھٹ گئی ۲؎ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، یا آپ سے اس کا ذکر کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایسا نہ کرو ، جب تم مذی دیکھو تو صرف اپنے عضو مخصوص کو دھو ڈالو اور وضو کر لو ، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو ، البتہ جب پانی ۳؎ اچھلتے ہوئے نکلے تو غسل کرو “ ۔