حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، يَقُولُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَىِ الرَّجُلِ قَالَ “ هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ ” .
انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں ٹھہریں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عقیل نے ہمارے لیے گھر یا زمین چھوڑی ہی کہاں ہے “ ؟ عقیل اور طالب دونوں ابوطالب کے وارث بنے اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو کچھ بھی ترکہ نہیں ملا اس لیے کہ یہ دونوں مسلمان تھے ، اور عقیل و طالب دونوں ( ابوطالب کے انتقال کے وقت ) کافر تھے ، اسی بناء پر عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ مومن کافر کا وارث نہیں ہو گا ۔