حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، سَمِعْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ، – مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ – يَذْكُرُ أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلِصٍّ فَاعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ الْمَتَاعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ” مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ ” . قَالَ بَلَى . ثُمَّ قَالَ ” مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ ” . قَالَ بَلَى . فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ” قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ” . قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ . قَالَ ” اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ” . مَرَّتَيْنِ .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہقبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھلوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص پھل خوشے میں سے توڑ کر چرائے تو اسے اس کی دوگنی قیمت دینی ہو گی ، اور اگر پھل کھلیان میں ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا ، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو ، اور اگر اس نے صرف کھایا ہو لیا نہ ہو تو اس پر کچھ نہیں “ ، اس شخص نے پوچھا : اگر کوئی چراگاہ میں سے بکریاں چرا لے جائے ( تو کیا ہو گا ) ؟ اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی دوگنی قیمت ادا کرنی ہو گی ، اور سزا بھی ملے گی ، اور اگر وہ اپنے باڑے میں ہو تو اس میں ( چوری کرنے پر ) ہاتھ کاٹا جائے بشرطیکہ چرائی گئی چیز کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو “ ۱؎ ۔