حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى، – رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ – عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ جَدَّتَهُ، خَيْرَةَ – امْرَأَةَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ – أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحُلِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ إِنِّي تَصَدَّقْتُ بِهَذَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ” لاَ يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ فِي مَالِهَا إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا فَهَلِ اسْتَأْذَنْتِ كَعْبًا ” . قَالَتْ نَعَمْ . فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ زَوْجِهَا فَقَالَ ” هَلْ أَذِنْتَ لِخَيْرَةَ أَنْ تَتَصَدَّقَ بِحُلِيِّهَا ” . فَقَالَ نَعَمْ . فَقَبِلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا .
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خیرۃ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا زیور لے کر آئیں ، اور عرض کیا : میں نے اسے صدقہ کر دیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں ، کیا تم نے کعب سے اجازت لے لی ہے “ ؟ وہ بولیں : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیج کر پچھوایا ، کیا تم نے خیرہ کو اپنا زیور صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے “ ، وہ بولے : جی ہاں ، تب جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا صدقہ قبول کیا ۔